یہ مجھے لگتا ہے نو دس سال پہلے کی بات ہے جب میں کہیں سے پیدل چلتی ہوئی آ رہی تھی اور ایک بارہ سال کا بچے نے بیر پکڑے ہوئے تھے تو مجھے بیر بہت پسند ہیں. آج کل تو ہمیں یہ چیزیں آسانی سے ملتی ہی نہیں تو اس بچے کو میں نے بولا بیٹا تھوڑے سے بیر مجھے دے دو اس نے بولا آنٹی سارے لے لیں تو میں نے بولا نہیں بیٹا مجھے تھوڑے سے چاہیے. تو میں نے تھوڑے سے بیر لیے. میں نےکہا بیٹا بہت شکریہ اللہ آپ کو سلامت رکھےاور اللہ آپ
کو پڑھائی میں کامیاب کرے تو بچہ آگے سے مسکرا دیا
تب سے میری ایک عادت بن گئی ہے کہ میں جب بھی باہر
نکلتی ہوں کسی کو بھی دیکھتی ہوں چاہے وہ بوڑھے ہیں چاہے وہ لڑکا ہے چاہے وہ چھوٹا بچہ ہے یا کوئی لڑکی یا خاتون تو میں ہر کسی کو دیکھ کے دعا دیتی ہوں. کوئی بوڑھا ہے تو میں کہتی ہوں اللہ ان کو تندرستی دے کسی لڑکے کو دیکھتی ہوں میں کہتی ہوں اللہ اسے برائیوں سے بچائے اور زندگی کی سمجھ دے. برائیوں سے دور رکھے . کسی بچے کو دیکھتی ہوں تو میں بچے کے لیے کوئی دعا کر دیتی ہوں. پچھلے دنوں میں نے ایک دس سال کے بچے کو دیکھا تو اس کے چہرے سے مجھے لگا کہ یہ بچہ stress میں ہے. میں نے اس کو دعا دی اللہ اسےstress سےبچائے آمین. تو مجھے یہ دعائیں دے کر بہت اچھا لگتا ہے. جب ہم دوسروں کو دعائیں دیتے ہیں تو وہ ہمارےحق میں بھی قبول ہو رہی ہوتی ہیں.ی
ان دعاؤں کی وجہ سے اللہ میری دعائیں بھی قبول کرتا ہے