سوال : 📿سر میں نے ایک لیکچر میں سنا تھا کہ "لا حول ولا قوة إلا باللّٰه" کی تسبیح ۔۔۔۔۔تو آپ نے کہا تھا کہ یہ تسبیح ذرا سوچ سمجھ کے پڑھنا۔۔۔۔ویسے تو یہ شیطان کو بھگانے کے لیے ہے۔۔۔سر اس سے کیا مراد ہے ؟
جواب: 📿دیکھو ہمارے لوگ عموماً اس کو شیطان بھگانے کے لیے پڑھتے ہیں مگر اگر انسان کو خدا کی طرف جانا ہو نا تو یہ سب سے بڑی تسبیح ہے ۔۔۔ دیکھو ہم کہتے ہیں کہ جی اپنے ہاتھ میں نہ لو خدا کے فیصلے، ہم لیتے ہیں ناں۔۔۔۔؟ تو ابھی تو خدا نے فیصلہ ہی نہیں کیا ہوتا۔۔۔
📿فرض کرو کہ بچہ پیدا ہونے والا ہے ۔۔۔وہ بیچارہ آیا ہی نہیں ۔۔۔تو تم نے چھ نام رکھے ہوتے ہیں اُس کے ۔۔۔۔تو خدا سے پہلے فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔۔۔یہ ہے
📿اور جو خدا نے فیصلے کرنے ہیں اُسکو اپنے ہاتھ میں نہ لو ۔۔۔ایک تو یہ ہے ۔۔۔اسکا اصلی مطلب بتاؤں کہ جو خدا نے فیصلے کرنے ہیں وہ اپنے ہاتھ میں نہ لو۔۔۔جو اپنے ہاتھ سے کرنے ہیں وہ خدا کے سپرد کر دو۔۔۔۔اب سمجھ آئی۔۔۔؟
📿بھئ جو خدا نے فیصلے کرنے ہیں ان میں دخل نہ دو وہ تمہارے نہیں ہیں تم زبردستی اُن فیصلوں کو اپنا سمجھتے ہو۔۔۔۔ اگلے سال کیا ہوگا مکان بنے گا ،نہیں بنے گا۔۔۔۔تم فضول فکروں میں پڑے ہوتے ہو۔۔۔ وہ ساری باتیں اللّٰه کے ذمے ہیں۔۔۔۔
۔Job ملے گا نہیں ملے گا..... او بھائی...! آرام سے امتحان دے کر بیٹھ جاؤ۔۔۔ تمھارا کام امتحان دینا ہے۔
📿 لا حول ولا قوة إلا بالله .... اس کا مطلب ہے ۔۔۔نہ میری قوت، نہ میرا ارادہ ۔۔۔جو کچھ ہے میرے اللّٰه کا ہے۔
📿پھر میں کیا کرتا ہوں۔۔۔۔ اگر میں چالاک آدمی ہوں تو سب سے بڑی چالاکی یہی ہے کہ میں اپنے کام سے فارغ ہوا۔۔۔ اور میں نے کہا اللّٰه میاں۔۔۔ سنبھال تُو مالک ہے، تُو کریم ہے ،مجھے بھی تو سمیٹ لے جسے تُو چاہتا ہے، ویسے گزار دے مجھے ۔۔
📿پھر اللّٰه کسی کا بُرا نہیں چاہتا
كَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ (6:12)
میں نے لکھ دیا ہے کہ میں اپنے بندوں پر مہربانی کروں گا۔
اللّٰه کے ہاتھ میں بات چلی جائے تو پھر آپ کو کوئی خطرہ نہیں رہتا۔۔۔۔!
(پروفیسر احمد رفیق اختر )